حضرت سخی سلطان خواجہ پیر محمد ایوب جہانگیری قادری چشتی جہانگیری کاہنوری۔    تصوف: اگر کوئی رسم ہوتا تو مجاہدے سے حاصل ہو جاتا ۔ اگر کوئی علم ہوتا تو وہ تعلیم سے حاصل ہو جاتا ، وہ تو صرف اخلاق کا نام ہے۔     کردار سے ہی انسان کی پہچان اور نیت سے انسان کامل ہے اور نیت انسان کا سب سے بڑا عمل ہے.    تصوف : نفس کی ہر لذ ت کو چھوڑ دیناہے۔    تصوف: تصوف کا پہلا حرف: ت ہے۔ تصوف کا دوسراحرف: ص ہے۔ تصوف کا تیسراحرف: و ہے۔ تصوف کا چوتھاحرف: ف ہے۔ ت سے مراد ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کی راہ میں خود کو تصرف کرے۔ ص سے مراد وہ سیدھا راستہ ہے۔ یعنی جاہ وحق پر چلنا۔ و سے مراد وعدہ خلافی سے اجتناب کرنا ہے۔ ف سے مراد فتح الغیب اور فنا فی النفس ہے۔    ذکر وہ ہے جس سے مقاماتِ ہدایت کی طیر سیر نصیب ہو ، اِدھر ذکر جاری ہو تو اُدھر یار سامنے ہو۔ جس ذاکر پر دورانِ ذکر راہ نبویﷺ نہیں کھلتی تو سمجھ لیں کہ وہ سیاہ دل ہے جو بُرے لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا ہے ۔ ذکر خاص وہ ذکر ہے جو ہر سانس کے ساتھ کیاجائے(حضرت سلطان باہوؒ) اس لیے زکر کر فکر کے ساتھ۔

دعا

میری آ نکھیں منور دل حقیقت آشنا کر دے اے ﷲ تیری ہمیشگی نے میری پیدائش پر عام احسانات کئے پس میں تو کچھ نہیں اور تیری ذات کا نور مجھ پر چمکا اور میری بشر یت کے ہی کل کو روشن کر دیا ۔ اب مجھے تیرے سوا کوئی نظر نہیں آتا، پس میں جب تک رہوں تیری بقا ء کے ساتھ قائم رہوں اور جب میں فنا ہو جائوں تو تیرا دیدار مجھے نصیب ہو۔ اے ﷲ عزو جل اپنی ذات کے ساتھ مجھے محو کردے یہاں تک کہ صفت کے ساتھ صفت مل جائے اور ذات کے ساتھ رابطہ قائم ہوجائے۔ اے مہربان اے مہربان! تونے آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں لطف کیا ۔ اے ﷲ میں التجا کرتا ہوں جیسا تو نے مجھ پر ماں کے پیٹ کے اندھیروں میں لطف کیا ایسا ہی تو مجھ پر اپنی قضا و قدر میں مہربانی فرما۔ اے ﷲ بخش دے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور رحم فرما اُن پر جیسا کہ پالا انہوں نے مجھ کو لڑکپن میں اور بخش دے ایمان والے اور ایمان والیوں کو اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کو جو زندہ ہے ان میں سے اور جو مردہ ہے ، اپنی رحمت کے طفیل بخشش فرما۔ اے پروردگار! مجھے اپنے حلم کی ٹھنڈک چکھا جو میرے حق میں ہو کیونکہ تو حق ہے اور تیرا امر حق ہے اور تو حکمت والا ہے ۔اے میرے پروردگار میرے افعال پر اپنی نظر کرم فرما اور مجھے ایسا کر کہ تیرے کمال قدرت کے سوا کسی کو خواب و خیال میں نہ لائوں تا کہ تیری تقدیروں کے نیچے ثابت و مطمئن دل ہو جائوں اور تیرے ہر ایک حکم و جودی عینی غیبی و برزخی کا فرمانبردار ہو جائوں۔ اے ﷲ! میری کار سازی تمام تو جہات سے کر اور میرے ارادہ کو مجھ سے فانی کر اور مجھے صبر دے اور مجھے نفسانی خواہشوں سے بند کر اور مجھ پر اپنے لطف و عنایت سے میری ہمراہی فرما اور مجھے اس قرب کے لائق کر جس میں میرے ساتھ کوئی وحشت نہ رہے۔ اے میرے معبود برحق توکیسا بُردبار ہے اُس پر جو تیری نافرمانی کرے اور تو کیسا قریب ہے اُس سے جو تجھے پکارے اور تو کیسا مہربان ہے اُس پر جو تجھ سے سوال کرے اور تو کیسا بڑا رحیم ہے اُس کے ساتھ جو تجھ سے امید رکھے ۔ اے پرورگار! تیری نعمتیں کوئی نہیں گن سکتا۔ اے وہ ذات کہ جس نے حضرت موسیٰ ؑ کے لئے دریا میں راستہ کر دیا اور حضرت عیسیؑ کے لئے مردے زندہ کر دیئے اور حضرت ابراہیم ؑ کے لئے آگ کو سرد کرد یا، رحمت فرما ہمارے سردار محمد ﷺ اور ہمارے سردار محمد ﷺ کی آل پر اور اصحابہ اکرامؓ پر تمام مومنین اور مومنات پر ۔ اے اﷲہمارے لیے اپنے امر کو خوشی اور غلامی کا باعث بنا ، اے ﷲ تمام آبی، خاکی، ناری، نوری مخلوقات اورحجر شجر، چرند پرند، درند، حیوانات ،نباتات ،جنات کل ملائکہ کل مسلمین و المسلمات کل مومنین و المومنات کل صالحین وا لصالحات سب پر اپنی رحمتوںکا نزول فرما۔ اے ﷲ! ہمارے ملک پر اور ہمارے صوبوں پر اور ہمارے شہروں پر اور ہمارے شہر پر اور ہمارے گھروں پر اور ہمارے گھر پر اپنی رحمتِ خاص عطا فرما اور ہمارے ماں باپ پیرو مرشد پہ رحمت ِ خاص عطا فرما کر خاص درجات عطا فرما۔ شفائے بیماراں، خلاصی ئِ قرض داراں، رہائی گنہگاراں ،اوّل خیر ،آخر خیر، ظاہر خیر، باطن خیر، الہٰی خیر گردانی ،بحق شاہِ جیلانی آمین ثمہ آمین!

TOP