حضرت سخی سلطان خواجہ پیر محمد ایوب جہانگیری قادری چشتی جہانگیری کاہنوری۔    تصوف: اگر کوئی رسم ہوتا تو مجاہدے سے حاصل ہو جاتا ۔ اگر کوئی علم ہوتا تو وہ تعلیم سے حاصل ہو جاتا ، وہ تو صرف اخلاق کا نام ہے۔     کردار سے ہی انسان کی پہچان اور نیت سے انسان کامل ہے اور نیت انسان کا سب سے بڑا عمل ہے.    تصوف : نفس کی ہر لذ ت کو چھوڑ دیناہے۔    تصوف: تصوف کا پہلا حرف: ت ہے۔ تصوف کا دوسراحرف: ص ہے۔ تصوف کا تیسراحرف: و ہے۔ تصوف کا چوتھاحرف: ف ہے۔ ت سے مراد ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کی راہ میں خود کو تصرف کرے۔ ص سے مراد وہ سیدھا راستہ ہے۔ یعنی جاہ وحق پر چلنا۔ و سے مراد وعدہ خلافی سے اجتناب کرنا ہے۔ ف سے مراد فتح الغیب اور فنا فی النفس ہے۔    ذکر وہ ہے جس سے مقاماتِ ہدایت کی طیر سیر نصیب ہو ، اِدھر ذکر جاری ہو تو اُدھر یار سامنے ہو۔ جس ذاکر پر دورانِ ذکر راہ نبویﷺ نہیں کھلتی تو سمجھ لیں کہ وہ سیاہ دل ہے جو بُرے لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا ہے ۔ ذکر خاص وہ ذکر ہے جو ہر سانس کے ساتھ کیاجائے(حضرت سلطان باہوؒ) اس لیے زکر کر فکر کے ساتھ۔

بادشاہِ فیض گنج

:نام و نسب

صاحبِ عالم بادشاہِ فیض گنج حضرت خواجہ سخی سلطان محمد ایوب جہانگیری قادری چشتی روحی فداہٗ راجپوت خاندان سے تعلق رکھتے ہیں آپ کا خاندان نہایت معزز اور نیک ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر اور بے باک ہے اس خاندان کے اکثر لوگ فوج میں ملازم رہے ہیں ۔ مغلیہ دورِ سلطنت اور برطانیہ کے دورِ حکومت میں اس خاندان کیلئے فوج میں کوٹہ مقرر تھااور اس خاندان کے آدمیوں کو زیادہ ترجیح دی جاتی تھی۔

:والدین کریمین

آپ کے والد محترم جناب میاں محمد یٰسین خاں صاحب رحمتہ اللہ علیہ نہایت معزز نیک سیرت تہجدگزار پابند صوم و صلوٰۃ اور طریقت میں سلسلہ قادری سے نسبت رکھتے تھے ۔ نہایت عمدہ اخلاق کے مالک تھے اور بچوں سے نہایت شفقت سے پیش آتے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ جنابہ کلثوم صاحبہ رام پور اسٹیٹ کے جاگیردار راؤ سلطان خاں کی صاحبزادی تھیں۔ آپ کی والدہ محترمہ نہایت نیک دل اور خدا رسیدہ خاتون اور بچپن ہی سے پابند صوم و صلوٰۃ تھیں۔ آپ کے والدین کریمین کی عظمت و شرافت اور بزرگی کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

:پیدائش

ہمارے حضرت قبلہ و کعبہ سیدی و مرشدی و مولائی خواجہ محمد ایوب جہانگیری دامت برکاتہم العالیہ نے ارشاد فرمایاکہ ہم ایک دن شجرہ شریف تلاوت فرما رہے تھے جب ہم سید امداد علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے نام مبارک پر پہنچے تو والد بزرگوار ؒ نے مسکرا کر فرمایا کہ بیٹے کیا ان بزرگوں کی جگہ بھی شجرہ شریف میں درج ہے۔ تو میں نے بتایا کہ موضع قاضی ولی چک ضلع بھاگلپور صوبہ بہار لکھا ہوا ہے۔ اس پر والد بزرگوار رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں اس آستانہ عالیہ میں اکثر حاضری دیا کرتا تھا۔ایک روز کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ ان بزرگوں سے اولاد کیلئے دعا کیوں نہیں کراتے کیونکہ اس وقت تک ہمارے ہاں کوئی اولاد نہ تھی پھر میں نے اس آستانہ عالیہ کے سجادہ نشین صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے دعا کیلئے عرض کی کہ حضرت اب تو میری مونچھوں میں سفید بال آنے شروع ہوگئے ہیں اور ابھی تک اولاد نہیں ہوئی دعا فرمائیے۔ تین بار عرض کرنے پر انہوں نے فرمایا کہ آپ کے ہاں پانچ اولادیں ہونگی جن میں تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہونگی اور انہیں کوئی مردِ حق مل جائیگا ۔ ان بزرگوں کی دعا سے حسبِ ذیل اولاد پیدا ہوئی۔
۱۔ جناب ڈاکٹر عبد العزیز صاحب قادری چشتی رحمتہ اللہ علیہ
۲۔ جناب ڈاکٹر عبد الواحد صاحب نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ
۳۔ جناب حضرت خواجہ سلطان محمد ایوب صاحب قادری چشتی ابو العلائی جہانگیری مدظلہ العالی
۴۔ جنابہ زیتون صاحبہ
۵۔ جنابہ خاتون صاحبہ

:بشارت

آپ کے والد محترم جناب محمد یٰسین خاں صاحب قادری رحمتہ اللہ علیہ رمضانی بی ایم پی (بہار ملٹری پولیس) میں ملازم تھے۔ ایک دن آپ رحمتہ اللہ علیہ ڈیوٹی پر کھڑے تھے کہ ایک بزرگ جناب سید مستان شاہ صاحب آپ کو نظر آئے انہوں نے فرمایا یٰسین خاں ادھر آو میں بھاگلپور سے آیا ہوں اور کلکتے جا رہا ہوں اور آج شام کا کھانا آپ کے گھر ہوگا۔ آپ ڈیوٹی سے گھر آئے اور ان بزرگ صاحب کے کھانے کا بندوبست فرمایا۔ شام کو وہ بزرگ صاحب تشریف لے آئے اور بتایا کہ میں روحانیت کی ڈیوٹی کر کے آ رہا ہوں۔ مجھے حکم ہوا تھا کہ اس گھر سے کھانا کھاؤں کلثوم میری بیٹی ہے یہ بہت نیک اور صالح خاتون ہے اس لیے اسکے ہاتھ کا کھانا کھانے کا مجھے حکم ہواہے اور فرمایا کہ آپ کے ہاں جو تیسرا لڑ کا ہو گا وہ بہت صالح ہو گا اسے میرے پاس لانا اتنے میں ان بزرگ صاحبؓ کے پاس لوگو ں کا ایک ہجوم لگ گیا اور لوگ انکے فیض سے مستفیض ہوئے۔ ایک عورت جو کہ بے ہوش تھی ان بزرگ صاحب کے پاس لاتے ہی ہوش میں آگئی۔

:مولدو مسکن

پ کے والد بزرگوار بہار ملٹر ی پولیس ضلع بھاگلپور صوبہ بہار کے کواٹرز میں رہائش پذیر تھے۔ اسی مقام پر آپ کی پیدائش بروز پیر28اکتوبر 1935ء بمطابق ذیقعدہ 1355ھ ہجری ضلع روہتک صوبہ مشرقی پنجاب ہندوستان میں ہوئی۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان بننے پر آپ کے والدین کریمین سرگودھا میں تشریف لے گئے وہاں پر مختصر قیام کے بعد موضع ہندال نزد کوٹ رادھاکشن میں چندروز قیام فرمایا اسکے بعد کوٹ رادھا کشن ضلع قصور میں مستقل رہائش اختیار فرمالی۔

:تعلیم

آپ نے ابتدائی تعلیم جماعت چہارم تک ڈیری اون سون ضلع سہ سرام سکول (انڈیا) میں حاصل کی اور دینی تعلیم کسی مدرسہ سے باقاعدہ طور پر حاصل نہیں کی ۔ باوجود اسکے کہ آپ کسی مکتب سے فارغ التحصیل نہیں ہیں مگر جب بھی کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا ہے تو آپ قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا شافی جواب عطا فرماتے ہیں کہ سننے والے حیرت زدہ ہو جاتے ہیں ۔ آپ کے حلقہ ارادت میں بڑے بڑے پرنسپل پروفیسر اور لیکچرار بلکہ علمائے دین اور مشائخ بھی شامل ہیں اور آپ ایسے نکات بیان فرماتے ہیںکہ بڑےبڑے فصحاء انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں اور آپکی قابلیت و ذہانت اور خداداد تبّحر علمی کے معترف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ بعض اوقات کئی پیر صاحبان اور علمائے کرام تجربہ کیلئے آجاتے ہیں اور بڑے بڑے دقیق مسائل پوچھتے ہیں آپ ایسے انداز سے بیان فرماتے ہیںکہ ان پڑھ آدمی بھی بآسانی سمجھ جاتا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے علم لدّنی عطا فرمایا گیا ہے۔

:ملازمت

آپ 27اکتوبر 1956ءکو پاکستان آرمی میں آرمڈ کور سنٹر نوشہرہ کینٹ ضلع پشاور میں بھرتی ہوئے ٹریننگ کرنے کے بعد11کیولری میں چلے گئے بعد میں لاہور میں24کیولری بنائی گئی تو آپ کو اس میں بھیج دیا گیا۔ فوج میں آپ نے 1965ءمیں کھیم کرن بارڈر پر پاک بھارت جنگ میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے اور 1971ءکی لڑائی میں گوجرانوالہ کے نزدیک باغ میں قیام رہا جنگ میں شامل نہیں ہونے دیا گیا۔آرمی کی ملازمت سے بے مثال (Exemplarly) کاکریکٹر سرٹیفکیٹ ملااور دو بار تمغہ ِحرب سے بھی نوازا گیا

:حلیہ مبارک

آپ کا قد مبارک درمیانہ ، فراخ سینہ، سڈول جسم ، گندمی رنگ، ریش مبارک گھنی اور کشادہ سنت کے عین مطابق آپ اسے مولائی داڑھی فرماتے ہیں یعنی حضرت مولا علی کی داڑھی مبارک کے مشابہ آپ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے سلسلے کے تمام بزرگوں کو دیکھا ہے سب حضرات کی داڑھی مبارک کو ایسا ہی پایا ہے شرابِ محبت سے مخمور آنکھیں عشق و مستی کا پیغام دیتی ہیں ۔ عنبریں زلفیں نہایت دلکش اور حسین چہرہ ۔ جو بھی عقیدت و محبت سے دیکھتا ہے گرویدہ ہو جاتا ہے ۔ بعض لوگ آپ کی تصویر مبارک کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ واقعی یہ مردِ خدا بلکہ بعض نے شیر خدا کا چہرہ کہا۔ اور معترف ہوئے کہ جب آپ کی تصویر میں اتنی کشش ہے تو پھر ضرور آپ کی ذات مقدس مظہر جمال خدا ہوگی۔ آپ کے چہرہ مبارک پر جب نور جلال کا ظہور ہوتا ہے تو کسی کی نگاہ نہیں ٹھہرتی اور نہ ہی تاب لا سکتی ہے بلکہ کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
پھرے زمانے میں چار جانب نگارِ یکتا تمہیں کو دیکھا
حسین دیکھے جمیل دیکھے لیک تم سا تمہیں کو دیکھا

:بیعت

حضرت خواجہ پیر غلام محمد شاہ صاحب جلوہ نما اولیاء 1959ء میں موضع پتوکی میں اپنے ایک خلیفہ صاحب کے ہاں تشریف فرما ہوئے تو آپ کے بھائی واجد علی جو کہ پہلے ہی جلوہ نما اولیاء سرکار رحمتہ اللہ علیہ کے ارادتمندان میں سے تھے آپ کو ہمراہ لے کر پتوکی میں حاضر خدمت ہوئے اور عرض کی حضور انہیں اپنی غلامی میں قبول فرمالیں جلوہ نما الاولیاء سرکار رحمتہ اللہ علیہ آپ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کیا آرمی میں سروس کرتے ہو عرض کی جی حضور ! ارشاد ہوا فقیری کا قانون آرمی سے بھی سخت ہوتا ہے کیا اس پر چل سکو گے ۔ سوچ لو۔۔۔!
اس عشق کی منزل میں قدم سوچ کے رکھنا
دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے
بڑئے بھائی صاحب نے دوبارہ عرض کی حضور کرم فرمایا جائے اور غلامی میں قبول فرمایا جائے اس پر جلوہ نما اولیاء سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا دست مبارک بڑھا دیا اور فرمایا کہ مضبوطی سے تھام لو یہی وہ رسی ہے جسے تھام کر اللہ تک پہنچا جاتا ہے۔ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا ۔اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اتنے میں آپ کو کیفیت طاری ہوگئی آپ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ پیرو مرشد نے کیا پڑھایا مجھے جب ہوش آیا تو میں رو رہا تھا۔پیر و مرشد نے ذکر و فکر اور تصورِ شیخ کے بارے میں ہدایات فرمائیں۔ بیعت کے بعد ذکر و فکر میں ایسے مشغو ل ہو گئے کہ دورانِ ملازمت کسی سے بات کرنے کو دل نہ چاہتا تھا۔ ہر وقت محویت اور استغراق رہتا۔

:اجازت

آپ کو سلسلہ عالیہ کی تبلیغ و اشاعت میں بہت دلچسپی تھی آپ ہمہ وقت اس کوشش میں رہنے لگے کہ مخلوق خدا کو حقیقت سے روشناس کرایا جائے اور بھٹکے ہوئے انسانوں کو راہ راست پر لایا جائے بلکہ خدا تک پہنچایا جائے ۔ جلوہ نما اولیاء سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کی خدمات اور ذوق کو دیکھ کر 1970ء میں آپ کو بیعت کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی ۔ لیکن کافی عرصہ تک آپ کا یہ معمول شریف رہا کہ بیعت کرنے کے بعد اچھی طرح تربیت کر کے اپنے پیر و مرشدکی بارگاہ میں پیش کر دیتے یا اپنے کسی پیر بھائی خلیفہ صاحب سے بیعت کروادیتے ۔ کافی عرصہ تک یہی سلسلہ چلتا رہا ۔ کچھ عرصہ بعد حضرت خواجہ غلام محمد شاہ صاحب جلوہ نما اولیاء سرکار رحمتہ اللہ علیہ سات آدمیوں کی خلافت کا علان فرمانے لگے جن میں ہمارے حضرت قبلہ خواجہ محمد ایوب جہانگیری ارواحنافداہم کا نام مبارک سر فہرست تھا۔ جب صوفی عبد الحمید شادباغ والے کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے پیر و مرشد سے عرض کی کہ حضورابھی خلافت نہ دیںاور ادھرجناب فیض رسول صاحب کوجوکہ سیدمستان شاہ صاحب کے صاحبزادے عبداللطیف صاحب کے سسر تھے انکو آپ کے پاس کہلا بھیجا کہ آج رات خلافت کا اعلان ہونا ہے آپ اتنا وزن نہ اٹھانا انکار کر دینا۔
اسکے بعد جناب محترم عزیز الدین صاحب سیالکوٹ والے جو کہ خلفاء حضرات میں سے تھے وہ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بھائی صاحب صوفی عبدالحمید نے اچھا نہیں کیا ہے ۔آپ تو اس سے اچھے معاملات کرتے ہو مگر اس نے آئی ہوئی نعمت کو رکوا دیا ہے آپ نے دریافت فرمایا کونسی نعمت ۔ انہوںنے بتایا کہ آج رات محفل پاک میں آپ کی خلافت کا اعلان ہونا تھا۔ سات آدمیوں میں آپ سرفہرست تھے۔ صوفی عبدالحمید نے حضور رحمتہ اللہ علیہ سےعرض کی کہ یہ میرے پاس رہتے ہیں ابھی بچے ہیں ابھی ان پر اتنا وزن نہ رکھیں ابھی اتنا وزن اٹھا نہیں سکتے۔ بعد میں کسی وقت اعلان ہو جائیگا ۔ آپکی کرم نوازی تو ہے ہی اس طرح اس نے ایک آئی ہوئی نعمت کو رکوا دیا ہے اس نے اچھا نہیں کیا۔

:سچا مسلمان

سرکار نے اپنا ایک واقعہ یو ں بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم نے اپنے آستانہ عالیہ میں اپنے پیر ومرشد کے ہمراہ مسجد میں نماز ادا کی۔ بعد فراغت کے ہمارے پیرو مرشد مسجد سے باہر تشریف لائے ہم بہت سے مریدین آپ کے پیچھے تھے آپ مسجد کے باہر سڑک کے درمیان کھڑے ہو گئےاور پیچھے مڑ کر میری طرف اشارہ کر کے اپنے باقی تمام مریدین سے فرمایا کہ اگر تم نے سچا مسلمان دیکھنا ہے تو اسے دیکھ لو آپ نے یہ ارشاد تین مرتبہ فرمایا۔
ایک مرتبہ ہمارے پیر و مرشد مسجد سے باہر تشریف لائے اور سڑک کے درمیان کھڑے ہو کر بڑے جلا ل میں فرمایا کہ یہ اینٹیں یہاں کیوں پڑی ہیں یہ سن کر تمام مرید اینٹیں اٹھانے کے لیے دوڑ پڑے میں بھی اینٹیں اٹھانے کیلئے چلا تو آپ نے فرمایا ’’ایوب‘‘ تم ادھر آؤ آپ مجھے اپنے ساتھ آستانہ عالیہ کے اند ر لے گئے اور میرے کان میں کچھ ارشاد فرمایا۔ جس پر مجھے کیفیت طاری ہو گئی اور میں بے ہوش ہو گیا جب مجھے ہوش آیا تو میں باہر آگیا ۔ خلفاء حضرات مجھے پوچھنے لگے کہ سرکار نے آپ کو کیا فرمایا ہے میں نے کہا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں اور واقعتہً مجھے کچھ معلوم نہیں ہوا تھا کہ آپ نے کیا فرمایا ہے کیو نکہ مجھے تو اپنا ہوش بھی نہیں رہا تھا۔ان کے بار بار پوچھنے پر میں نے یہی جواب دیا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں اس پر تمام خلفاء بڑے سیخ پا ہوئے اور کہنے لگے کہ تم ہم سےکچھ چھپا رہے ہو۔ ہم تو آدمی کو چٹکی سے مسل دیتے ہیں اور تجھے بھی دیکھ لیں گے ۔اس طرح مخالفین کے اندر حسد کی آگ تیز ہونے لگ گئی۔

:اپنے آپ کو چھپانا

آپ سرکار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اپنے پیر و مرشد کی نگاہِ لطف و کرم سے ولایت کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہو چکے تھے مگر آپ نے عرصہ دراز تک اپنے مقام و مرتبہ کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا اور لوگوں میں اس انداز سے رہے کہ کسی کو معلوم ہی نہ ہوکہ آپ ولایت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں ۔ آپ V.R.Iصدر لاہور میں ملازمت کرتے رہے ۔ وہاں پر کسی کو معلوم نہ ہو سکا اور آتے جاتے وقت ٹرین میں آپ کے ساتھ روزانہ سفرکرنے والے بھی اس حقیقت سے نا آشنا رہے ۔ کیونکہ آپ لوگوں کے ساتھ اس طرح سے پیش آتے کہ کوئی آپ کو پہچان ہی نہ سکا ۔
آپ کا کوئی مرید اگر ٹرین میں آپ سے ملتا تو اسے ہاتھ چومنے کی اجازت نہ تھی اور نہ ہی بازار میں آپ سے ملنے والا کوئی مرید آپ کے ہاتھ چوم سکتا تھا ۔ کیونکہ آپ سرکار نے سب کو سختی سے منع فرمایا ہوا تھاآپ جب بھی بازار میں کسی ضرورت کیلئے تشریف لے جاتےتو کسی کو ساتھ لیکر نہیں چلتے تھے ۔ اگر کوئی ایک یا دو آدمی ساتھ چلے جاتے تو ان سے فرماتے کہ ہمارے ساتھ اس طرح چلنا کہدیکھنے والے کو محسوس نہ ہو کہ پیر اور مرید جا رہے ہیں۔ بلکہ اس طرح سے ہمارے ساتھ چلو جیسے دوست ہوتے ہیں۔
آپ تقریباً عرصہ پچاس سال سے بیعت کر رہے ہیں مگر کوٹ رادھاکشن شہر میں رہائش پذیر ہونے کے باوجود چند لوگوں کے سواکسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہاں شہر میں اتنے بڑے بزرگ موجود ہیں۔

TOP